حضرت علی رضی اللہ عنہ – سلسلہ خلفاے راشدین کے چوتھے خلیفہ، شجاعت، علم اور شہادت کی کہانی
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے اور ان کی خلافت 656ء سے 661ء تک رہی۔ وہ نہ صرف نبی ﷺ کے چچا زاد اور داماد تھے بلکہ ان کی زندگی اسلام میں علم، شجاعت اور عدل کی علامت کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا
حضرت علی رضی اللہ عنہ پیغمبر ﷺ کے گھر میں پیدا ہوئے اور سب سے پہلے لڑکے کے طور پر اسلام قبول کرنے والے صحابی تھے۔ بچپن ہی سے وہ نبی ﷺ کے قریب رہے اور ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنگوں، تبلیغ اور اسلام کے فروغ میں ان کا کردار بے مثال تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا علم، عدل، شجاعت اور فقہ میں مہارت تھی۔ وہ قرآن اور احادیث کے بہترین علمبردار تھے، اور عدل و انصاف کے لیے جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ جنگ بدر، اُحد، خندق اور خوارج کے خلاف جنگوں میں ان کی بہادری کی مثال دی جاتی ہے۔
خلافت کے دوران مشکلات
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو بہت سے سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد خلافت سنبھالنے کے باوجود کئی علاقوں میں بغاوتیں اور اختلافات پیدا ہوئے۔ جنگ جمل، جنگ صفین اور خوارج کے شورش پسند گروہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت علیؓ نے ہر مشکل میں صبر اور حکمت کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی، اور کسی بھی مسلمان کے

شہادت
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اور تاریخی موڑ تھا، جو رمضان المبارک سن 40 ہجری (661ء) میں کوفہ، موجودہ عراق کے عظیم مسجد (Great Mosque of Kufa) میں فجر کی نماز کے دوران پیش آیا۔ ان پر حملہ عبدالرحمان ابن ملجم الکندی نامی ایک خوارجی (Kharijite) نے کیا، جس نے اپنے ساتھ دو دیگر منصوبہ سازوں شبیب بن بجرہ اور وردان بن المجالد کے ساتھ مل کر تین بڑے مسلم رہنماؤں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا: حضرت علیؓ، معاویہ اور عمرو بن عاص — جس میں صرف علیؓ پر حملہ کامیاب ہوا۔
ابن ملجم نے اپنے قبضے میں زہر آلود تلوار رکھی تھی اور وہ خاص طور پر حضرت علیؓ کو شھید کرنے کے لیے اُس دن مسجد میں آیا۔ ﴿حملہ فجر کی نماز کے دوران ہوا﴾۔ جب حضرت علیؓ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو وہ تلوار کے حملے کے وقت سجود یا رکوع میں تھے، اور ابن ملجم نے ان کے سر پر شدید وار کیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد لوگوں نے ملجم کو گرفتار کر لیا اور اسے حضرت علیؓ کے سامنے لایا گیا۔
ان کے زخم بہت سنگین تھے، اور دو دن تک شدید تکلیف کے باوجود حضرت علیؓ زندہ رہے، جس دوران انہوں نے اپنے قاتل سے رحم کرنے اور انصاف کے صحیح طریقے اپنانے کی درخواست کی، اور فرمایا کہ اگر وہ بچ گئے تو خود فیصلہ کریں گے، اور اگر شہید ہو

حضرت علیؓ تقریباً 63 سال کی عمر میں اپنے زخموں کی وجہ سے رمضان المبارک کے 21 (یا 19) تاریخ کو وفات پا گئے، اور ان کی تدفین خفیہ طور پر کی گئی تاکہ ان کی قبر کی بے حرمتی نہ ہو، جس کے باعث ان کے اصل قبر کا مقام مختلف روایات میں آیا — مشہور قول کے مطابق وہ کوفہ میں دار الامارت کے قریب دفن ہیں، اور بعد میں مقامِ زیارت نجف اشرف کے طور پر مشہور ہوا۔
یہ حملہ خوارج کی طرف سے اس لیے کیا گیا کیونکہ انہوں نے حضرت علیؓ کے جنگ صفین کے بعد ثالثی قبول کرنے اور ان سے جنگ جاری نہ رکھنے کو قرآن کے خلاف سمجھا، جس سے ان کی ناراضگی بڑھی اور وہ علیؓ سے انتقام لینے کے مقصد سے منصوبہ بندی میں لگ گئے تھے۔ حضرت علیؓ کی شہادت نے امت مسلمہ میں پہلی فتنہ اور بغاوت کے دور کو شدت سے آگے بڑھایا اور خلافت راشدہ کے بعد سیاسی انتشار کا آغاز کیا۔
اختتام
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی اور شہادت اسلام میں علم، شجاعت، عدل اور تقویٰ کی اعلیٰ مثال ہے۔ ان کی خلافت کے دوران آنے والی مشکلات، سیاسی سازشیں اور دشمنوں کے حملے کے باوجود وہ صبر اور حکمت کے ساتھ رہیں، اور اپنی جان کی قربانی دے کر امت مسلمہ کو اتحاد، قربانی اور حق کے لیے ثابت قدم رہنے کا سبق