شیاٹیکا {کمر درد} کیا ہے؟ شیاٹیکا {نس کا دب جانا} کے اسباب اور علاج

   شیاٹیکا {کمر درد} کیا ہے؟ شیاٹیکا {نس کا دب جانا} کے اسباب اور علاج

شیاٹیکا ایک ایسا درد ہے جو ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے سے شروع ہو کر کمر، کولہوں، اور ٹانگوں تک پھیلتا ہے۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب شیاٹک نرو دب جاتا ہے یا اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ شیاٹیکا صرف درد تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ سنسناہٹ، جلن، یا ٹانگ میں کمزوری بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو شیاٹیکا ایک طرف کی ٹانگ میں محسوس ہوتا ہے، لیکن کچھ معاملات میں دونوں ٹانگوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کی شدت ہلکی سے لے کر شدید تک ہو سکتی ہے، اور بعض اوقات بیٹھنے، کھڑے ہونے یا چلنے میں بھی مشکل پیدا کر دیتا ہے۔

مہرے اور ان کے درمیان ڈسک کا کردار

ریڑھ کی ہڈی کئی چھوٹے حصوں یا مہرے (vertebrae) پر مشتمل ہوتی ہے، جو ایک دوسرے کے اوپر اوپر جڑتے ہیں اور جسم کو سہارا دیتے ہیں۔ ہر دو مہرے کے درمیان ایک نرم اور لچکدار ڈسک (intervertebral disc) موجود ہوتی ہے، جو جیسے ایک گدا یا کشن کا کام کرتی ہے۔ یہ ڈسک حرکت کے دوران جھٹکوں کو جذب کرتی اور ریڑھ کی ہڈی کو موڑنے، جھکانے اور گھمانے کی سہولت دیتی ہے۔

شیاٹیکا کی سب سے عام وجہ یہی ڈسک ہے، خاص طور پر جب اس کا نرم حصہ باہر نکل کر شیاٹک نرو پر دباؤ ڈال دیتا ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے کمر اور ٹانگ میں شدید درد، سنسناہٹ اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ ڈسک کی صحت برقرار رکھنے کے لیے مناسب وزن، صحیح بیٹھنے کا طریقہ، اور ریڑھ کی ہڈی کی مضبوطی کے لیے ورزش بہت ضروری ہے، کیونکہ کمزوری یا چوٹ کی صورت میں ڈسک آسانی سے خراب ہو سکتی ہے اور شیاٹیکا کا سبب بن سکتی ہے۔

شیاٹیکا کے اقسام

شیاٹیکا ہر مریض میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے اور اس کے کئی اقسام ہیں۔ سب سے عام قسم نارمل یا ہلکی شیاٹیکا ہے، جس میں درد کبھی کبھار ٹانگ یا کمر میں محسوس ہوتا ہے، اکثر تھکن یا لمبے وقت تک بیٹھنے کے بعد، اور یہ عام طور پر زیادہ نقصان نہیں پہنچاتی۔ دوسری قسم لور بیک شیاٹیکا ہے، جس میں درد کمر کے نچلے حصے سے شروع ہو کر ایک ٹانگ تک پھیلتا ہے اور حرکت میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں دو طرفہ شیاٹیکا ہوتی ہے، جہاں دونوں ٹانگوں میں درد، سنسناہٹ یا جلن محسوس ہوتی ہے، یہ زیادہ شدید اور نایاب حالت ہے۔ چلنے یا بیٹھنے پر بڑھنے والا شیاٹیکا وہ قسم ہے جو زیادہ دیر بیٹھنے، کھڑے ہونے یا چلنے پر درد کو تیز کر دیتا ہے۔ کچھ افراد میں عصبی شیاٹیکا بھی پایا جاتا ہے، جس میں

نرو دبنے کی وجہ سے ٹانگ میں کمزوری یا سنسناہٹ ہوتی ہے، اور بعض اوقات یہ روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

شیاٹیکا کے اسباب

شیاٹیکا کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں، اور یہ سمجھنا ضروری ہے تاکہ صحیح علاج کیا جا سکے۔ سب سے عام وجہ ریڑھ کی ہڈی میں ہرنیئٹڈ ڈسک ہے، جس میں ڈسک کا نرم حصہ باہر نکل کر شیاٹک نرو پر دباؤ ڈال دیتا ہے، جس سے کمر اور ٹانگ میں شدید درد شروع ہو سکتا ہے۔ دوسری وجہ ریڑھ کی ہڈی کی ہڈی یا ہڈیوں کا سکڑنا (spinal stenosis) ہے، جو عمر بڑھنے کے ساتھ عام ہوتا ہے اور نرو کو دبانے لگتا ہے۔

حمل کے دوران خواتین میں بھی شیاٹیکا کی شکایت ہو سکتی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی وزن اور رحم کی پوزیشن نرو پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ طویل عرصے تک خراب بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی عادت بھی اس کا سبب بنتی ہے، جیسے کہ کمپیوٹر پر بیٹھنا یا بھاری وزن اٹھانا۔ کچھ لوگ موٹاپے یا زیادہ وزن کی وجہ سے بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ ریڑھ کی ہڈی پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ دیگر وجوہات میں چوٹ یا حادثات، پٹھوں میں سختی، یا نرو کی سوزش (inflammation) شامل ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شیاٹیکا ہر شخص میں مختلف طریقے سے ظاہر ہو سکتی ہے، اور اکثر یہ ایک یا زیادہ عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ صحیح اسباب معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر اکثر جسمانی معائنہ، مریض کی تاریخ اور کبھی MRI یا X-ray استعمال کرتے ہیں تاکہ مؤثر علاج تجویز کیا جا سکے۔

شیاٹیکا کی تشخیص

شیاٹیکا کی تشخیص کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ درد کی اصل وجہ کیا ہے اور کون سا علاج سب سے مؤثر ہوگا۔ ڈاکٹر عام طور پر سب سے پہلے مریض سے علامات اور طبی تاریخ کے بارے میں پوچھتے ہیں، جیسے درد کب شروع ہوا، کس ٹانگ میں ہے، اور کون سی حرکت یا پوزیشن سے درد بڑھتا ہے۔ اس کے بعد جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے، جس میں ڈاکٹر مریض کی ریڑھ کی ہڈی، کولہوں اور ٹانگوں کی حرکت، پٹھوں کی طاقت اور سنسناہٹ کو چیک کرتے ہیں۔

کبھی کبھار مزید تصویری ٹیسٹ جیسے X-ray، MRI یا CT scan کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ڈسک پر دباؤ ہے، ہڈی سکڑ گئی یا کوئی اور مسئلہ موجود ہے۔ بعض اوقات نرو کنڈکٹنس ٹیسٹ (Nerve Conduction Test) بھی کیا جاتا ہے تاکہ نرو کی فعالیت اور کمزوری کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکے۔ صحیح تشخیص کے بغیر علاج مؤثر نہیں ہوتا، اس لیے یہ مرحلہ بہت اہم ہے تاکہ مریض جلد آرام

محسوس کر سکے اور مزید پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

شیاٹیکا کا علاج اور گھر پر خیال رکھنا

شیاٹیکا کے علاج میں سب سے پہلے اس کی شدت اور وجہ کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ عام طور پر ڈاکٹر درد کم کرنے والی دوائیں جیسے پین کلرز یا سوزش کم کرنے والی ادویات تجویز کرتے ہیں تاکہ مریض کو فوری راحت ملے۔ شدید یا دیرینہ کیسز میں فزیوتھراپی بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے، جس میں مخصوص ورزشیں اور اسٹریچنگ شامل ہوتی ہیں جو ریڑھ کی ہڈی اور پٹھوں کو مضبوط کرتی ہیں، نرو پر دباؤ کم کرتی ہیں، اور درد کی شدت کو کم کرتی ہیں۔ بعض معاملات میں، اگر ڈسک یا نرو میں شدید نقصان ہو تو سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے تاکہ دباؤ ہٹایا جا سکے اور مریض کی حرکت بہتر ہو۔

اس کے ساتھ ہی گھر پر کچھ احتیاطی اقدامات اور آسان علاج بھی بہت اہم ہیں۔ مریض کو چاہیے کہ لمبے وقت تک بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے گریز کرے، کمبل یا گدی کے مناسب استعمال سے آرام کرے، اور ہلکی پھلکی ورزش اور واک کرے تاکہ خون کی روانی بہتر ہو اور پٹھے مضبوط رہیں۔ آرام اور سونے کے دوران صحیح پوزیشن اختیار کرنا بھی ضروری ہے، جیسے پیٹھ سیدھی رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ٹانگوں کے نیچے تکیا رکھنا۔ کچھ لوگ گرم یا سرد کمپریس بھی استعمال کرتے ہیں، جو درد اور سوزش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر نہ صرف درد کو کم کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں شیاٹیکا کے دوبارہ ہونے کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔

شیاٹیکا سے بچاؤ اور روزمرہ زندگی پر اثرات

شیاٹیکا سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم چیز صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی اور پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لیے روزانہ ہلکی پھلکی ورزش اور اسٹریچنگ بہت ضروری ہے، تاکہ نرو پر دباؤ کم رہے اور جسم لچکدار رہے۔ بھاری چیزیں اٹھاتے وقت صحیح طریقے سے اٹھانا بھی بہت اہم ہے، یعنی ہمیشہ گھٹنے موڑ کر اور پیٹھ سیدھی رکھ کر وزن اٹھائیں تاکہ ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ دباؤ نہ پڑے۔

شیاٹیکا نہ صرف جسمانی تکلیف پیدا کرتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ کام کے دوران طویل بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے درد بڑھ سکتا ہے، نیند اور آرام متاثر ہو سکتا ہے، اور کبھی کبھار عام سرگرمیاں جیسے چلنا، کھانا پکانا یا گھر کے کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے شیاٹیکا سے بچاؤ کے اقدامات اپنانا اور روزمرہ زندگی میں مناسب وقفے، آرام، اور حرکت شامل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ نہ صرف درد سے بچا جا سکے بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت بھی برقرار