دوسری جنگِ عظیم کی تصاویر: خون، تباہی اور فتح
دوسری جنگِ عظیم 1939 سے 1945 تک جاری رہنے والی انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگ تھی۔ ایک طرف اتحادی طاقتیں تھیں جن میں برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ اور فرانس شامل تھے، جبکہ دوسری طرف محور طاقتیں یعنی نازی جرمنی، جاپان اور اٹلی کھڑے تھے۔ یہ جنگ یورپ، ایشیا، افریقہ اور سمندروں تک پھیل گئی، جس میں کروڑوں فوجی اور شہری جان سے گئے۔ بالآخر 1945 میں جرمنی اور جاپان کی شکست کے ساتھ اتحادی طاقتوں نے فتح حاصل کی اور دنیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔
مئی 1945 کو جاپانی کامیکازی حملے میں یو ایس ایس بنکر ہل کو دو بار نشانہ بنایا گیا — 372 مردہ اور 264 زخمی۔ طیارے سیدھے جہاز پر ٹکرائے، جنگ کی سب سے کریہہ جنگی حکمت عملیوں میں سے ایک۔
پل ہاربر پر ایریزونا جنگی جہاز تباہ ہو گیا، جس میں سینکڑوں بحری اہلکار جاں بحق ہوئے — امریکہ کی جنگ میں شمولیت کا سب سے بڑا منہ دوڑ دھکا۔
جون 1944 کو میریانا جزائر کے قریب جاپانی طیارہ امریکی جہاز کی فائرنگ سے تباہ ہوا۔ فضائی معرکے میں دشمن کی ٹوٹتی قوت واضح ہوتی ہے۔
اکتوبر 1944 کو جنرل ڈگلس میک آرتھر فلپائن کے لیتی خلیج میں سمندر پار پہنچتے ہیں۔ اس فتح نے پیسیفک جنگ میں اہم پیش رفت کی راہ کھولی۔
فروری 1944 کو کواجالیئن پر امریکی میرینز نے فلیم تھروئرز کا استعمال کیا — یہ بھڑکتی آگ دشمن کے ٹھکانوں کو کھولنے میں استمعال ہوئی۔
نومبر 1944 کو فرنچ فائرنگ اسکواڈ نے ایک ملزم کو سر انجام تک پہنچایا — جنگ میں سزا اور انصاف کا ظالمانہ منظر، جو انسانی حقائق کی تلخ عکاسی کرتا ہے۔
دسمبر 1940 کو لندن پر بمباری کے دوران چھت پر موجود سپاہی دشمن طیاروں کی نگرانی کرتا ہے — شہری علاقوں میں جنگ کی شدت۔
6 جون 1944 کو اتحادی فوج نے اوماہا بیچ پر سمندر کی لہروں اور دشمن کی تیز فائرنگ کے باوجود حملہ کیا۔ اس تصویر میں امریکی سپاہی ساحل تک پہنچنے کی آخری کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں — جنگ کی سب سے بڑی اور خطرناک لینڈنگ کا منظر۔
اسٹالن گراڈ کی لڑائی دوسری جنگ عظیم کی سب سے خونی لڑائی سمجھی جاتی ہے۔ پورا شہر ملبے میں بدل چکا تھا، عمارتیں راکھ بن چکی تھیں اور ہر گلی میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں نازی جرمنی کی پیش قدمی ٹوٹ گئی دوسری جنگ عظیم میں سب سے زیادہ جانی نقصان سوویت یونین نے اٹھایا — اندازاً 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
مشرقی محاذ پر ہزاروں جرمن فوجی سوویت افواج کے ہاتھوں قیدی بنے۔ یہ منظر نازی طاقت کے زوال اور سوویت جوابی حملے کی واضح علامت تھا۔
کرسک کی لڑائی تاریخ کی سب سے بڑی ٹینک جنگ تھی۔ ہزاروں ٹینک آمنے سامنے آئے، زمین ہل گئی اور آسمان دھوئیں سے بھر گیا۔ اس جنگ کے بعد جرمن افواج کبھی سنبھل نہ سکیں۔
جون 1944 کو میریانا جزائر کے قریب جاپانی طیارہ امریکی جہاز کی فائرنگ سے تباہ ہوا۔ فضائی معرکے میں دشمن کی ٹوٹتی قوت واضح ہوتی ہے۔
مئی 1945 کو فرانس کے شہر Reims میں Nazi Germany کے اعلیٰ افسران نے Allies کے سامنے غیر مشروط surrender کے دستاویز پر دستخط کیے۔ اِس دستاویز نے یورپ میں جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا۔
جاپان نے 2 ستمبر 1945 کو USS Missouri میں بلاسروط surrender کر کے World War II کا Pacific حصہ ختم کیا، جس میں امریکی اور پھر دوسری allied افواج کے خلاف دورِ جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔