سنہ 1971 - بھارتی طیارے کی انوکھي ہائی جیکنگ - مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کا سفر
لاہور ایئرپورٹ کی اُس سرد شام پر کسی کو وہ منظر کبھی بھول نہیں سکتا۔ رن وے پر اچانک ایک بھارتی طیارہ اُتر آیا—بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اور بغیر اُس ہلچل کے جو عام طور پر کسی ہنگامی لینڈنگ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ یہ لمحہ ایسا تھا کہ خود پاکستانی عملے نے بھی ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا—'بھارتی جہاز یہاں؟ کیسے؟ کیوں؟' اُس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ اچانک اُترنے والا طیارہ آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیا کی سیاست، میڈیا اور تاریخ کو دہلا کر رکھ دے گا۔
ہائی جیکنگ یا ڈرامہ؟
جہاز کے اندر کا ماحول اُس ہائی جیکنگ سے بالکل مختلف تھا جو عام طور پر ذہن میں آتی ہے۔ نہ گھبراہٹ، نہ چیخیں، نہ کوئی ہنگامہ۔ مسافر حیرت انگیز طور پر پر سکون بیٹھے تھے، جیسے کسی فلائٹ میں معمولی تاخیر ہوگئی ہو۔ کچھ لوگ باتیں کر رہے تھے، کچھ کھڑکیوں سے باہر جھانک رہے تھے۔ ہائی جیکرز کی حرکات میں بھی وہ گھبراہٹ یا شدت نہیں تھی جو ایک حقیقی ڈرامائی صورتحال میں ہوتی ہے۔ سب کچھ کچھ زیادہ ہی نارمل لگ رہا تھا—اتنا نارمل کہ بعد میں خود ان مسافروں نے کہا کہ انہیں لمحہ بھر کے لیے بھی یقین نہیں آیا کہ یہ واقعی ہائی جیکنگ ہے۔
بھارت کا شور - طیارہ لاہور میں، الزام دہلی سے
جب بھارتی طیارہ اچانک لاہور میں اترا تو پاکستان کے لیے یہ ایک گہرا معمہ تھا، سوال صرف یہ تھا کہ جہاز یہاں کیسے پہنچا—اور کیوں؟ لیکن بھارت میں تصویر بالکل مختلف دکھائی جا رہی تھی؛ اینکر چیخ رہے تھے کہ پاکستان نے طیارہ چُرا لیا ہے، کوئی کہہ رہا تھا کہ ہائی جیکرز کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے، تو کوئی اسے کھلی جارحیت بتا رہا تھا۔ حقیقت

ہائی جیکرز کی گرفتاری
جب طیارہ لاہور میں اترا اور ابتدائی معلومات اکٹھی ہوئیں تو پاکستانی حکام نے فوراً دونوں ہائی جیکرز کو حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاری انتہائی آرام سے ہوئی—نہ کوئی ہنگامہ، نہ وہ گھبراہٹ جو اصل ہائی جیکرز میں دیکھی جاتی ہے۔ ان کی جیبوں سے نہ کوئی معقول مطالبات کی فہرست ملی، نہ کوئی منظم پلان، گویا پورا کیس پھولا ہوا تھا، وزن کے بغیر۔
دونوں افراد ایسے بیٹھے تھے جیسے کسی نے انہیں پہلے سے سمجھا دیا ہو کہ گھبرانا نہیں، بس اسٹیج پلے پورا کرنا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی نے جب ان سے پوچھ گچھ کی تو ان کے بیانات میں غیر معمولی خلا نظر آئے۔ ان کے پاس موجود بم کھولا گیا تو پتا چلا کہ یہ بم نہیں بلکہ ایک خام، ناقابلِ استعمال، کمزور سا جعلی آلہ تھا۔
بھارت کی فضائی پابندی - RAW کا مشکوک کردار
ہائی جیکنگ کے اس ڈرامے کے بعد بھارت نے فوری طور پر ایک غیر معمولی فضائی پابندی عائد کر دی، جس کے تحت پاکستان کے لیے بین الاقوامی فضائی راستے سختی سے محدود کر دیے گئے۔ یہ فیصلہ پاکستانی حکام کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ اس سے نہ صرف تجارتی فلائٹس متاثر ہوئیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی دباؤ پڑا۔
تاہم، جلد ہی تحقیقات سے ایک اور پہلو سامنے آیا، اس تمام منصوبے کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کی مداخلت کے شبہات پیدا ہوئے۔ ابتدائی شواہد اور بعد کے انٹیلیجنس رپورٹس سے ظاہر ہوا کہ یہ ہائی جیکنگ دراصل کسی سیاسی فائدے کے لیے اسٹیجڈ تھی، جس میں RAW نے نہ صرف ہائی جیکرز کی تربیت دی بلکہ ان کے بیانات اور واقعات کا سارا
1971 کی اصل چال — پاکستان کو تنہا کرنے کی ناکام سازش
اصل منصوبے کا تعلق 1971 کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال سے تھا۔ اُس وقت مشرقی پاکستان میں بغاوت بڑھ رہی تھی، اور بھارت کی واضح خواہش تھی کہ پاکستان کا مشرقی بازو پوری طرح تنہا ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت نے ہائی جیکنگ کا ڈرامہ رچایا تاکہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے خلاف جواز بنایا جا سکے اور ساتھ ہی ایک ایسا قدم بھی اٹھایا جائے جو پاکستان کے لیے زخم کاٹ دینے کے مترادف تھا: ایسٹ پاکستان کے ساتھ فضائی رابطہ بالکل ختم کرنا۔
ہائی جیکنگ کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں، جس کے نتیجے میں مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان جانے والی تمام پروازیں بند ہو گئیں۔ پاکستان کو مجبوراً لمبا بحر ہند کا راستہ استعمال کرنا پڑا، جس نے مشرقی پاکستان کی سپلائی کو سست، مہنگا اور غیر مؤثر بنا دیا۔ یہ وہ اسٹریٹجک ضرب تھی جس نے بھارت کو 1971 کی جنگ میں فیصلہ کن فائدہ دیا۔
پاکستان کی سفارتی جیت اور تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ
جب حقیقت پوری دنیا کے سامنے آئی کہ یہ ہائی جیکنگ جعلی تھی اور بھارت کے اندر سے اس کا اسٹیج ڈرامہ رچا گیا تھا، تو پاکستان کی سفارتی اور سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گئی۔ عالمی ذرائع نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں رکھا، اور بھارت کی الزامات تراشی بے بنیاد ثابت ہوئی۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخی حقائق اکثر میڈیا کے شور اور سیاسی مقاصد کے پردے میں چھپ جاتے ہیں، اور کبھی کبھی وہ لمحے جو سب سے خطرناک لگتے ہیں، حقیقت میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور عجیب ہو سکتے ہیں۔