مصری ایٹمی سائنسدان سمیرا موسیٰ کی موت کے پیچھے چھپی سازشیں
مصر کے ایک چھوٹے سے گاؤں زیفتا میں، 3 مارچ 1917 کو ایک ایسی بچی نے آنکھ کھولی جس کے خواب اُس وقت کے معاشرے کے لیے ناقابلِ یقین تھے۔ سمیرا موسیٰ، ایک عام کسان خاندان سے تعلق رکھنے والی بچی، علم کی ایسی پیاسی تھیں کہ اسکول کے ابتدائی دنوں ہی میں اپنے اساتذہ کو حیران کر دیتی تھیں۔ وہ محض کتابیں نہیں پڑھتی تھیں، بلکہ ان میں چھپے "کیوں" اور "کیسے" تلاش کرتی تھیں۔ ان کے والد نے، جو خود آزادی کے حامی اور تعلیم دوست تھے، بیٹی کے خوابوں کو پروان چڑھایا۔ یہی آغاز تھا اُس سفر کا جو بعد میں عرب دنیا کی پہلی نیوکلیئر سائنسدان کی شکل میں تاریخ میں درج ہوا۔
دیہات سے ایٹم تک — سمیرا موسیٰ کا روشن سفر
ایک عام مصری گاؤں کی خاموش فضاؤں سے اُٹھنے والی سمیرا موسیٰ نے اپنے خوابوں کی روشنی سے نہ صرف اپنی زندگی، بلکہ پوری قوم کے فکری منظرنامے کو بدل ڈالا۔ غربت اور سماجی پابندیوں کے باوجود وہ اس یقین کے ساتھ آگے بڑھیں کہ تعلیم عورت کا حق بھی ہے اور ہتھیار بھی۔ اسکول کے ابتدائی دنوں میں ہی ان کی غیر معمولی ذہانت نے سب کی توجہ حاصل کی، اور قاہرہ یونیورسٹی میں داخلہ ان کے خوابوں کی سمت پہلا بڑا قدم ثابت ہوا۔
وہاں انہوں نے فزکس اور نیوکلیئر سائنس میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور جلد ہی تابکاری کے پرامن استعمال پر تحقیق شروع کر دی۔ ان کا ماننا تھا کہ ایٹمی توانائی کو جنگ کے بجائے شفا کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا مشہور جملہ آج بھی سائنس کی دنیا میں گونجتا ہے:
'میری خواہش ہے کہ ایٹمی علاج اتنا سستا ہو جائے جتنا کہ درد کش گولی۔'
یہ صرف ایک خیال نہیں تھا بلکہ ایک وژن تھا، جس نے انہیں "ایٹم برائے امن" کے نظریے کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل کر دیا۔
امریکہ کا دورہ — علم یا جال؟
سمیرا موسیٰ کی علمی سفر کی انتہا اس وقت ہوئی جب انہیں امریکہ سے ایک خصوصی دعوت نامہ موصول ہوا۔ انہیں وہاں کی ایٹمی تجربہ گاہوں کا دورہ کرنے اور جدید تحقیقی نظام دیکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ دعوت اس بات کا ثبوت تھی کہ ایک عرب خاتون سائنسدان بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنا چکی تھیں۔ امریکہ پہنچ کر انہوں نے مختلف تحقیقی مراکز کا معائنہ کیا، ریسرچرز سے ملاقاتیں کیں، اور اپنی اس سوچ کو مزید وسعت دی کہ ایٹمی توانائی کو تباہی کے بجائے انسانیت کی خدمت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مگر یہی وہ موڑ تھا جہاں سمیرا موسیٰ کی زندگی میں ایک پر اسرار خاموشی چھا گئی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے امریکی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایٹمی تحقیق کے نتائج ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں تاکہ سب قومیں یکساں فائدہ حاصل کر سکیں۔ یہ خیال بظاہر انسانی فلاح کے لیے تھا، مگر اُس وقت کی عالمی سیاست میں اسے خطرہ سمجھا گیا۔ ان کے خیالات نے ایٹمی طاقتوں کو بے چین کر دیا، کیونکہ وہ "ایٹم کی اجارہ داری" کے خلاف بات کر

حادثہ یا قتل؟ ۵ اگست ۱۹۵۲ کا معمہ
۵ اگست ۱۹۵۲ کی دوپہر، امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک پر سکون سڑک پر ایک کار اچانک تیز رفتار سے مڑ کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے میں کار مکمل طور پر تباہ ہوگئی، اور مصر کی نوجوان نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر سمیرا موسیٰ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ ابتدائی رپورٹوں میں اسے 'حادثہ' قرار دیا گیا، لیکن جلد ہی سوالات اٹھنے لگے کیونکہ کار میں موجود ڈرائیور کسی طرح معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔ اس نے بتایا کہ کار کے بریک اچانک فیل ہو گئے تھے، مگر تفتیش کاروں کو بریک سسٹم میں کوئی واضح خرابی نہ ملی۔ مزید حیران کن بات یہ تھی کہ حادثے سے ایک روز قبل سمیرا کو ایک مشکوک فون کال موصول ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے اعزاز میں ایک اہم ملاقات رکھی گئی ہے۔ وہ خوشی خوشی روانہ ہوئیں مگر واپس کبھی نہ آئیں۔ اسی لیے مصری میڈیا نے اس واقعے کو جلد ہی "حادثہ نہیں، بلکہ قتل" قرار دینا شروع کر دیا۔
قاتل کون تھا؟ سوال جو آج تک زندہ ہے
یہ سوال آج بھی تاریخ کے سینے پر خنجر بن کر گڑا ہے - سمیرا موسیٰ کو آخر مارا کس نے؟ کوئی عدالت، کوئی رپورٹ، کوئی گواہ آج تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکا۔ مگر اشارے، سازشیں، اور خاموشیاں سب ایک ہی سمت اشارہ کرتی ہیں طاقت کے اُن ایوانوں کی طرف، جہاں علم سے زیادہ خوف کی حکمرانی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں قیام کے دوران سمیرا نے کچھ ایسے ایٹمی رازوں تک رسائی حاصل کر لی تھی جو اُس وقت کی بڑی طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھے۔ وہ چاہتی تھیں کہ ایٹمی علم صرف چند ملکوں کی جاگیر نہ رہے، بلکہ دنیا بھر میں انسانیت کے مفاد میں بانٹا جائے۔ یہ سوچ اُن طاقتور قوتوں کے لیے زہر بن گئی جو "ایٹم" کو ہتھیار کے طور پر اپنے قبضے میں رکھنا چاہتی تھیں۔
کئی مصری محققین نے انگلی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد پر اٹھائی کیونکہ سمیرا نے اسرائیل کے نیوکلیئر عزائم کے خلاف کھل کر آواز بلند کی تھی۔ جبکہ کچھ رپورٹس یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ امریکی اداروں نے خود مداخلت کی، تاکہ وہ عرب دنیا کو حساس معلومات منتقل نہ کر سکیں۔ مگر سب کچھ اتنی صفائی سے کیا گیا کہ کوئی ثبوت باقی نہ بچا جیسے حقیقت کو خود وقت نے مٹا دیا ہو۔
سمیرا موسیٰ کی موت کے پیچھے چھپی سازشیں
ان کی موت کے فوراً بعد مصری حکومت نے امریکہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی، مگر جواب میں صرف ایک مبہم بیان ملا: "حادثہ غیر ارادی تھا، تحقیقات مکمل ہیں۔" کوئی تصاویر، کوئی گواہی، کوئی شواہد — سب کچھ خاموشی کے پردے میں لپٹ گیا۔ جلد ہی امریکہ میں ان کے قیام سے متعلق تمام کاغذات "کلاسیفاییڈ" قرار دے دیے گئے، یعنی عوامی رسائی سے باہر۔ کچھ ماہرین کے مطابق، سمیرا موسیٰ دراصل اُس وقت کے "ایٹم برائے امن" پروگرام سے آگے بڑھ کر ایک آزاد عرب نیوکلیئر ریسرچ نیٹ ورک بنانے کی کوشش کر رہی تھیں، جو

ایٹمی رازوں کی جنگ – ایک مصری خاتون نشانہ کیوں بنی
سنہ 1950 کی دہائی عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی بالادستی کی جنگ کا دور تھا۔ امریکہ، سوویت یونین، اور اسرائیل سب اپنے اپنے مفادات کے لیے ایٹمی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری چاہتے تھے۔ ایسے میں ایک مصری خاتون، جو نہ صرف نیوکلیئر ریسرچ میں ماہر تھی بلکہ "ایٹم برائے امن" کا نظریہ دنیا کے سامنے رکھ رہی تھی، ان کے لیے خطرہ بن گئی۔
سمیرا موسیٰ نہ کسی حکومت کی ایجنٹ تھیں، نہ کسی طاقت کے تابع — وہ صرف ایک انسانیت دوست سائنسدان تھیں۔ ان کا مقصد ایٹمی توانائی کو علاج، تحقیق اور ترقی کے لیے استعمال کرنا تھا۔ مگر عالمی سیاست میں ایسا شخص جو توازن بگاڑ دے، ہمیشہ خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں "نمونہ عبرت" بنانے کے لیے راستے سے ہٹایا گیا تاکہ دوسرے سائنسدان ایسی باتوں کی جرات نہ کریں۔ لیکن تاریخ نے فیصلہ دے دیا - طاقتور لوگ انہیں مار تو سکے، مگر ان کا نظریہ نہیں مٹا سکے۔ آج بھی دنیا کے کئی تحقیقی ادارے ان کے خواب — "ایٹم برائے امن" — کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مصر کا ماتم، دنیا کی خاموشی
جب سمیرا موسیٰ کی موت کی خبر مصر پہنچی، تو پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔ اخبارات کے سرخ عنوان چیخ اٹھے "قوم کی بیٹی کو مار دیا گیا!" قاہرہ یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کیا، سائنسدانوں نے مذمتی بیانات دیے، اور مصری عوام نے اپنی بیٹی کے جنازے کو قومی وقار کی علامت بنا دیا۔ لیکن دنیا خاموش رہی - نہ کوئی عالمی مذمت، نہ کوئی انصاف کی آواز۔ وہی دنیا جو آزادی، علم، اور انسانیت کے نعرے لگاتی تھی، اُس وقت سمیرا موسیٰ کے خون پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی۔
یہ خاموشی محض سفارتی نہیں تھی، بلکہ ایک گہری سیاسی مصلحت کا حصہ تھی۔ کسی ملک نے سوال نہیں اٹھایا کہ ایک غیر ملکی سائنسدان کی موت کے شواہد کیوں چھپائے گئے؟ کیوں امریکہ نے تحقیقات کو خفیہ قرار دیا؟ مصر نے کئی بار رپورٹ مانگی، مگر ہر بار جواب وہی — "یہ محض ایک حادثہ تھا۔" مگر مصری عوام جانتے تھے کہ یہ حادثہ نہیں، ایک علمی بغاوت کی سزا تھی۔ آج بھی ان کی یاد میں ہر سال ایک لمحہ خاموشی منایا جاتا ہے، لیکن اس خاموشی میں ایک چیخ چھپی ہے — "کاش دنیا نے اُس دن سمیرا کے لیے بول دیا ہوتا!"
ایٹم کی بیٹی — سمیرا موسیٰ کی ادھوری مگر زندہ کہانی
سمیرا موسیٰ مر کر بھی زندہ ہیں - علم، ہمت اور امن کے خواب کی صورت میں۔ اُن کی زندگی نے یہ ثابت کیا کہ ایک عورت صرف مشعل نہیں، پورا زمانہ بدل سکتی ہے۔ وہ سیاست، طاقت اور خوف کے درمیان علم کی روشنی بن کر ابھریں، مگر دنیا اُس روشنی کو برداشت نہ کر سکی۔ آج جب بھی کوئی عورت سائنس کے میدان میں قدم رکھتی ہے، سمیرا موسیٰ کی روح مسکراتی ہے - جیسے کہہ رہی ہو، "میرے خواب ادھورے سہی، مگر بجھے نہیں۔"