بغداد میں امریکی فوج کیلئے خوف کی علامت — جوبا سنائپر کون تھا؟ عراق جنگ کا پراسرار کردار

بغداد میں امریکی فوج کیلئے خوف کی علامت — جوبا سنائپر کون تھا؟ عراق جنگ کا پراسرار کردار

سنہ 2003 میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور بغداد کی گلیاں ٹینکوں، دھماکوں اور گولیوں سے بھرج گئیں، انہی دنوں ایک پراسرار نام سامنے آیا- جوبا۔ امریکی قبضے کے خلاف بڑھتی مزاحمت میں یہ سنائپر ایک خاموش مگر مہلک سایہ بن کر ابھرا۔ کچھ لوگ اسے اصل لڑاکا مانتے ہیں، کچھ اسے محض پروپیگنڈے کا کردار کہتے ہیں، اور آج ہم اسی معمہ کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں گے—کہ آخر جوبا واقعی کون تھا، اور اس کہانی میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا؟

اسلامی آرمی آف عراق کی ویڈیوز

2004 سے 2007 کے درمیان اسلامی آرمی آف عراق (IAI) نے جوبا کے نام سے ویڈیوز جاری کرنا شروع کیں۔ ان ویڈیوز میں نہ صرف سنائپر حملے دکھائے جاتے بلکہ ہر ہدف کی گنتی بھی باقاعدہ ریکارڈ کی جاتی تھی۔ پہلی جوبا ویڈیو میں تقریباً 27 امریکی فوجیوں کے نشانے دکھائے گئے، جبکہ 2007 میں آنے والی مشہور “Juba: The Baghdad Sniper 2” ویڈیو میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 37 سے 40 تک بتائی گئی۔

یہ ویڈیوز ٹرائی پوڈ، اسکوپ کیمرے، اور ایڈیٹنگ سافٹ ویئر کے ساتھ تیار کی جاتی تھیں۔ ہر ویڈیو میں ترتیب کچھ یوں ہوتی: پہلے دوربین کے اسکوپ میں امریکی فوجی نظر آتا، پھر کراس ہیئر اس پر ٹھہرتا، ہلکی سی سانس روکنے کی آواز آتی، اور فائر کے بعد سپاہی زمین پر گرتا دکھائی دیتا۔

ویڈیو کے آخر میں جوبا کی مشہور نوٹ بک دکھائی جاتی، جس میں ہر مارے گئے سپاہی کے سامنے ایک ہندسہ اور ٹک مارک ہوتا- گویا یہ صرف حملے کی نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کی علامت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی میڈیا نے ان ویڈیوز کو “Fear Weapon” یعنی خوف کا ہتھیار کہا۔

جوبا — ایک سنائپر

یا ایک پورا نیٹ ورک؟

جوبا کی شہرت جتنی تیزی سے پھیلی، اتنی ہی جلد اس کے بارے میں شکوک بھی بڑھنے لگے۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بغداد جیسے شہر میں، جہاں امریکی فوج ہزاروں اہلکاروں، ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور مسلسل نگرانی کے ساتھ موجود تھی، ایک اکیلا سنائپر سالوں تک دہائیوں سے زیادہ ہلاکتیں کر کے غائب ہو جائے- یہ تقریباً ناممکن لگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ متعدد امریکی رپورٹس میں جوبا کو ایک فرد نہیں بلکہ سنائپر سیل یا باقاعدہ تربیت یافتہ یونٹ کہا گیا۔ اس بات کو اسلامک آرمی آف عراق کی ویڈیوز بھی تقویت دیتی ہیں، جن میں مختلف مقامات، مختلف انداز اور مختلف اسلحہ نظر آتا ہے، جیسے یہ کام ایک ہی ہاتھ کی بجائے متعدد نشانہ باز انجام دے رہے ہوں۔

جوبا کی بندوق — طبوق اسنائپر رائفل

جوبا کی مشہور ’’طبوق‘‘ اسنائپر رائفل اصل میں یوگوسلاویائی M76 کا عراقی ورژن تھی، جو 7.62×54mmR کارٹریج استعمال کرتی ہے، وہی طاقتور گولہ جو روسی ڈریگنوف اور مشین گنیں استعمال کرتی ہیں۔ اس کی 800–1,000 میٹر تک مؤثر رینج بتائی جاتی ہے، مگر بغداد جیسے شہری علاقوں میں جوبا اسے عام طور پر 200–400 میٹر کے اندر انتہائی درستگی سے استعمال کرتا دکھایا گیا۔

رائفل میں نیم آٹومیٹک فائرنگ، بھاری بیلٹ، اور سادہ مگر مضبوط آپٹکس نصب ہوتے تھے، جنہیں ایرک PSO‑style اسکوپ کہا جاتا ہے۔ اس کا کم ری کوئل اور فوری ری-ایم باکسنگ جوبا جیسے اسنائپر کو موقع دیتا تھا کہ وہ ایک گولی چلائے، پوزیشن بدلے اور چند سیکنڈ میں غائب ہو جائے۔

امریکی خوف اور نفسیاتی جنگ — کیا جوبا واقعی پکڑا گیا تھا؟

امریکی فوج جوبا کے نام سے اس حد تک خوفزدہ تھی کہ بغداد میں گشت پر جانے

والے کئی یونٹس کو ’’Sniper Alley‘‘ کی خاص بریفنگ دی جاتی تھی، جہاں ہر چھت، ہر کھڑکی اور ہر اندھی گلی کو ممکنہ خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ امریکی دستوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ انہوں نے جوبا کو پکڑ لیا ہے یا وہ کسی کارروائی میں مارا گیا ہے، مگر ہر دعویٰ بعد میں غلط ثابت ہوا-

یا تو وہ شخص جوبا نہیں ہوتا تھا، یا ثبوت ناکافی ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 2005–2007 کے سب سے شدید برسوں میں جوبا ایک حقیقی فرد سے زیادہ ایک نفسیاتی علامت بن گیا- ایک ایسا نام جس نے امریکی فوج کی حرکتوں کو سست، محتاط اور خوف زدہ کیا، اور جس کی موجودگی کے شبہے نے خود بخود ہی امریکی آپریشنز پر دباؤ بڑھا دیا۔

جوبا کا نام آج بھی کیوں زندہ ہے؟

جوبا آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ وہ صرف ایک جنگجو کا نام نہیں بلکہ ایک پہیلی ہے—ایک ایسا سایہ جس نے دنیا کی سب سے طاقتور فوج کو بغداد کی گلیوں میں محتاط قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ ایک شخص تھا، ایک ٹیم، یا صرف مزاحمتی پروپیگنڈا… مگر اس کے فائر کی آواز نے ایک پوری جنگ کی کہانی بدل دی۔ امریکی رپورٹس، ویڈیوز، ماہرین کی بحثیں، اور ان گنت فورمز آج بھی ایک ہی سوال سے بھرا پڑا ہے:

جوبا کون تھا؟ اور اگر وہ کبھی تھا… تو پھر کہاں غائب ہو گیا؟ یہی وہ معمہ ہے جس نے اسے تاریخ کے سب سے پراسرار سنائپرز میں بدل دیا—ایک ایسا نام جو ہر بار سنائی دیتا ہے تو جنگ کا دھواں، خوف، اور خاموشی سب دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔

تحریر اور تحقیق: شبیر احمد، موٹی بانڈہ، مردان، پاکستان