مزارِ قائد پر نہرو کا دورہ - تعمیر کے مشورے اور تاریخی ریکارڈ کیا کہتے ہیں؟

مزارِ قائد پر نہرو کا دورہ - تعمیر کے مشورے اور تاریخی ریکارڈ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی تاریخ میں ایک قصہ ہے جو ہمیشہ سننے والوں کے دل میں تجسس پیدا کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1960 کی دہائی میں، جب تعلقات بھارت اور پاکستان کے درمیان انتہائی نازک تھے، جواہر لعل نہرو پاکستان آئے۔ ان کا اصل مقصد سندھ تاس معاہدے پر مذاکرات اور دستخط تھا، مگر روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ کراچی پہنچے اور مزارِ قائد کی جانب روانہ ہوئے۔

تصور کریں، ایک سرد اور خاموش صبح، ہلکی دھند کراچی کی فضا میں چھائی ہوئی، مزار ایک سادہ سفید قبر، خالی ہال، اور ادھوری تعمیرات۔ ہوا کے ساتھ مٹی کی خوشبو اور سمندر کی ہلکی لہریں منظر کو اور بھی سنجیدہ بنا رہی تھیں۔ کہانی کے مطابق، نہرو نے یہ سب دیکھا، اپنی آنکھوں میں حیرت کے آثار، اور کہا جاتا ہے کہ صدر ایوب خان کو تنبیہ کی کہ قائد اعظم کے لیے ایک باوقار اور عظیم الشان مزار تعمیر کیا جائے۔

یہ منظر اتنا فلمی اور دلکش ہے کہ ہر سننے والا اسے حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا یہ واقعہ واقعی ہوا، یا یہ صرف ایک مشہور افسانہ ہے؟ آج ہم اس کہانی کی تحقیق کریں گے، اور حقیقت کو منظرِ عام پر لائیں گے۔

نہرو کا دورہ پاکستان

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جواہر لعل نہرو پاکستان آئے اور مزارِ قائد گئے، مگر تاریخی ریکارڈ مکمل طور پر واضح ہے کہ نہرو کبھی بھی کراچی یا مزارِ قائد کے پاس نہیں گئے۔ ان کا 1960 میں پاکستان کا

دورہ صرف دریائی پانی کے معاہدے (سندھ تاس معاہدہ) کے سلسلے میں لاہور کے لیے تھا۔ نہ تو کوئی سرکاری دستاویز، نہ خبریں، اور نہ ہی تصاویر موجود ہیں جو یہ ظاہر کریں کہ وہ مزار پر گئے۔

تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ مزار کی تعمیر اور اس کے فنِ تعمیر کے فیصلے فاطمہ جناح اور صدر ایوب خان کے ذمے تھے، نہ کہ نہرو کے۔

یحیا مرچنٹ اور نہرو کا تعلق

مزار کی تعمیر 1960 کی دہائی میں شروع ہوئی، اور اس کا مقصد قائد اعظم کے لیے ایک باوقار یادگار قائم کرنا تھا۔ مزار سفید سنگ مرمر سے بنایا گیا، اس کا ڈیزائن سادہ مگر شاندار ہے، اور یہ آج پاکستان کی سب سے اہم قومی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔

مزارِ قائد کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والے آرکیٹیکٹ یحیا مرچنٹ تھے، جو بھارت کے شہر ممبئی سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک ماہر اور جدید مسلم فنِ تعمیر کے ماہر تھے، اور ان کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب پاکستان نے قائد اعظم کے لیے ایک شاندار اور باوقار مزار بنانے کا فیصلہ کیا۔

کہا جاتا ہے کہ یحیا مرچنٹ جواہر لعل نہرو کے علمی اور پیشہ ورانہ حلقوں سے تعلق رکھتے تھے، اور اسی وجہ سے نہرو نے انہیں پاکستان آنے اور مزار کے منصوبے پر کام کرنے کی اجازت دی۔ اگرچہ یہ تعلق تاریخی لحاظ سے صرف پیشہ ورانہ اور اجازت دینے تک محدود تھا، لوگوں نے اسے اکثر یہ کہانی بنا

کر پھیلا دیا کہ نہرو نے مزار کی تعمیر میں براہِ راست مشورہ دیا۔

مشہور افسانہ کیسے پھیلا؟

مزارِ قائد اور نہرو کی مبینہ ملاقات کا قصہ دراصل ایک مشہور افسانہ بن گیا، جس کی بنیاد جھوٹی اطلاعات، غلط فہمیاں اور وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کہانیاں ہیں۔ یاحیا مرچنٹ کا بھارت سے تعلق اور نہرو کی اجازت دینے کی حقیقت کو لوگوں نے اس طرح پھیلایا کہ ایسا لگے کہ نہرو خود مزار پر گئے اور ایوب خان کو مشورہ دیا۔

یہ افسانہ زیادہ تر اخباری کالموں، کتابوں، اور پھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بلاگز کے ذریعے عام ہوا۔ چونکہ یہ کہانی جذباتی، دلچسپ اور تھوڑی فلمی لگتی تھی، اس لیے ہر سننے والا اسے سچ سمجھ بیٹھا۔ حقیقت میں، نہرو کا پاکستان آنا صرف سندھ تاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے سلسلے میں لاہور تک محدود تھا، اور مزارِ قائد پر وہ کبھی نہیں گئے۔

اختتامیہ: حقیقت کیا ہے؟

مزارِ قائد اور جواہر لعل نہرو کی مبینہ ملاقات کا قصہ ایک مشہور افسانہ ہے، نہ کہ تاریخی حقیقت۔ دستاویزی ریکارڈ، سرکاری فائلیں، اور نیوز رپورٹس یہ ثابت کرتی ہیں کہ نہرو کبھی کراچی یا مزارِ قائد کے پاس نہیں گئے۔ ان کا 1960 میں پاکستان کا دورہ صرف سندھ تاس معاہدے کے سلسلے میں لاہور تک محدود تھا۔

لہٰذا، مزارِ قائد کی عظمت اور شان کا تعلق نہرو سے نہیں بلکہ پاکستانی قیادت اور فنکاروں کی محنت اور جذبے سے ہے، اور یہ یادگار آج بھی ہماری تاریخ اور شناخت کی