سیالکوٹ 2003 - قیدیوں کا خطرناک منصوبہ، تین ججوں کا یرغمال اور شہادت
پاکستان بننے کے بعد کی تاریخ میں 25 جولائی 2003 کا دن ایک ہولناک یاد بن کر ثبت ہو گیا، جب سیالکوٹ ڈسٹرکٹ جیل میں سزائے موت اور عمر قید کے قیدیوں نے اسلحہ کے زور پر عدالتی نظام کو یرغمال بنا لیا۔ معمول کی جیل انسپیکشن چند لمحوں میں خونی سانحے میں بدل گئی، جب قیدیوں نے ججوں کو یرغمال بنایا اور ریاست کی رِٹ، جیل سیکیورٹی اور انصاف کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
ججوں کی جیل آمد اور قیدیوں کا یرغمال بنانا
25 جولائی 2003 کو سیالکوٹ ڈسٹرکٹ جیل میں تین معروف سول جج اپنی معمول کی انسپیکشن کے لیے پہنچے: Sagheer Anwar، Shahid Munir Ranjha، اور Asif Mumtaz Cheema۔ وہ جیل کے مختلف بیرکس اور ریکارڈ روم کا معائنہ کرنے آئے تاکہ قیدیوں کی حالت اور جیل کے انتظامات کا جائزہ لے سکیں۔
اسی دوران کچھ سزائے موت یا بھاری جرائم میں قید قیدیوں نے، جن میں محمد اشرف، زبیر احمد، اور عاطف حسین شامل تھے، اچانک صورتحال پر قابو پا لیا اور ججوں کو یرغمال بنا لیا، جس سے جیل میں ایک خونی سانحے کا آغاز ہوا۔

قیدیوں کے مطالبات
ججوں کو یرغمال بنانے کے بعد قیدیوں نے دو بنیادی مطالبات پیش کیے: اسلحہ اور ایک 72 سیٹر بس، تاکہ وہ جیل سے محفوظ طور پر باہر نکل سکیں۔ یہ مطالبات قیدیوں کی منظم منصوبہ بندی اور خطرناک عزائم کو واضح طور پر ظاہر کرتے تھے۔
مذاکرات اور پولیس آپریشن
مذاکرات کے دوران پولیس کو یہ سنگین خدشہ لاحق ہو گیا کہ قیدی 72 سیٹر بس میں ججوں اور دیگر قیدیوں کو بٹھا کر انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کریں گے۔ یہی خدشہ پولیس آپریشن کے فیصلے کی بڑی وجہ بنا۔
بعض اطلاعات کے مطابق حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک قیدی کی والدہ کو بھی جیل لایا گیا تاکہ وہ اپنے بیٹے کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرے، مگر اس کے برعکس قیدی مزید مشتعل ہو گئے اور صورتحال مزید خطرناک ہو گئی۔
جب مذاکرات ناکام ہوتے نظر آئے تو پولیس نے جیل کے اندر آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں تین جج شہید ہو گئے، پانچ قیدی مارے گئے،

تحقیقات، غفلت اور سنگین سوالات
سانحے کے بعد واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی گئیں، جنہوں نے جیل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اتنی سخت سیکیورٹی والی جیل میں قیدیوں تک اسلحہ کیسے پہنچا؟
جیل عملے کی ممکنہ غفلت یا ملی بھگت کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکا۔ اس کے علاوہ ججوں کی آمد سے قبل مناسب سیکیورٹی پلان نہ بنانا، قیدیوں کی مکمل تلاشی نہ لینا، اور حساس صورتحال میں مؤثر مذاکرات کا فقدان بھی شدید تنقید کا باعث بنا۔
تحقیقات کے نتیجے میں متعدد جیل افسران کے خلاف محکمانہ کارروائیاں ہوئیں، جیل سیکیورٹی کے قواعد سخت کیے گئے، اور عدالتی انسپیکشن کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں متعارف کروائی گئیں۔ اس کے باوجود یہ سوال آج بھی باقی ہے کہ اگر بروقت احتیاط اور مضبوط سیکیورٹی ہوتی تو کیا یہ خونی سانحہ روکا جا سکتا تھا؟